Site icon Sehat Zaiqa

صاف پانی کا میسر نہ ہونا صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج

صاف اور شفاف پانی کا گلاس جو صحت مند زندگی کی علامت ہے

صاف پانی کا میسر نہ ہونا صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج

پانی خواہ پینے کے لیے ہو یا آب پاشی اور دوسری ضرورتوں کے لیے یہ پوری دنیا خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں روز بروز تشویشناک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق پاکستان کی کل آبادی میں سے صرف تیرہ فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔ پاکستان میں پانی نہ صرف آلودہ ہو رہا ہے بلکہ مسلسل کم بھی ہو رہا ہے۔

مزید یہ کہ جہاں کئی بڑے شہروں میں لاکھوں لوگ صاف پانی خرید کر پیتے ہیں۔  وہاں کروڑوں افراد سرکاری لائن سے آنے والے پانی ملکوں ، کنویں اور جوہروں کے پانی پر اپنی گزر بسر کرتے ہیں۔ آج منرل واٹر صرف خواص کی ضرورت ہے۔

لیکن آنے والے کل میں یہ ہر گھر کی ضرورت بن جائے گا اور ایسا لگتا ہے کہ ماہرین کی یہ پیش گوئیاں سچ لگنے لگیں گی کہ مستقبل کی جنگیں تیل کی بجائے پانی کے لیے لڑی جائیں گی۔

آبی ذخائر کے ساتھ ناروا سکوک

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں پانی کے ذخائر دریا چشمے جھر نے سب کچھ ہے۔  لیکن ہم اپنے ان ذخائر کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ یہ آپ کسی بھی دریا اور کسی بھی چشمے پر جا کر دیکھ لیں۔ ہمارے دریا کا سب سے بہترین استعمال یہ ہے کہ جب بھی دریا کسی شہر سے گزر رہا ہو تو سارے شہر کا فضلہ دریا میں پھینک دیا جائے۔

 آلودہ پانی انسانی صحت کو کیسے متاثر کرتا ہے

Link:
https://www.medicalnewstoday.com/articles/water-pollution-and-human-health

📌 وجہ:
تحقیقات کے مطابق آلودہ پانی میں موجود جراثیم اور کیمیکل جسم میں داخل ہو کر معدے کی بیماریوں، کینسر اور اعصابی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔

اس طرح میونسپل ادارے ٹھوس اور مائع فضلہ کوٹھکانے لگانے کی بہت بڑی ذمہ داری سے با حسن و خوبی عہدہ بر آہ ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال اور بھی تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔  جب پاکستان کے شمالی علاقوں کی طرح صاف اور شفاف پانی میں علاقے بھر کی غلاظت ملتی دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ فیکٹریوں، کارخانوں اور پیداواری یونٹوں سے نکلنے والے کیمیکل اور فاضل زہر یلے مادے پاکستان کے بیشتر علاقوں میں پانی کو آلودہ کر رہے ہیں۔

 

آبی ذخائر کا ضیاع

ہم اپنے آبی ذخائر کو جس بے دردی سے ضائع کر رہے ہیں۔  اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ پانی ہوا کے بعد انسان کی دوسری بڑی ضرورت ہے۔  لہٰذا اس وقت پاکستان میں صورت و حال یہ ہے کہ یہ پانی موت کا سبب بن رہا ہے۔ دنیا کی تمام بیماریوں میں سے تقریباً 80 فیصد کا تعلق غیر محفوظ پانی سے ہے۔  اسی طرح اندرونی فضلہ کے غیرمحفوظ تلف کرنے سے 50 سے زاید امراض پھیل سکتی ہیں۔ یہ امراض پانی اور فضلہ میں موجود مختلف جراثیم اور کیڑوں کے ذریعے پھیلتی ہیں۔

حکومت کی ذمہ داری

اس کے علاوہ عوام کو پینے کا صاف ستھرا پانی مہیا کرنا ، ناصاف پانی سے ہونے والے نقصان سے آگاہ کرنا اور عوام الناس کی بنیادی صحت کیلئے عملی اقدامات اٹھانا حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ پانی کی کمی، پانی کے ضیاع کو روکنے اور آلودگی سے بچانے کے لیے ڈیمز کی تعمیر ، فیکٹریوں اور کارخانوں سے نکلنے والے کیمیکلز اور مختلف زہریلے مادوں سے آلودہ پانی کو ٹھکانے لگانے کا مناسب بندو بست کرنا اور ملکی و قومی سطح پر دیگر اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وگر نہ صحت کے ساتھ ساتھ زرعی شعبہ میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ناصاف پانی کے پینے سے پیدا ہونے والے امراض اسہال ، پیش ، ہیپا ٹائٹس وغیرہ سے بچنے کے لیے ہم اپنی مدد آپ کے تحت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے بیماریوں سے بیچ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ

 

کرنا کیا ہے؟

 ہمیشہ جراثیم و کیمیکل وغیرہ سے پاک اور صاف پانی کا استعمال کریں۔ فیکٹریوں اور کارخانوں وغیرہ کے کیمیائی فضلات کو تلف کرنے کے مناسب انتظامات کئے جائیں۔ مزید یہ کہ پانی کو ابال کر نہ پیا جائے۔  فلٹر کر کے پیا جائے یا کم از کم اسے زیادہ جوش نہ دیا جائے۔  وگرنہ اس کے اندر بعض نمکیات، دھاتی کیمیائی عمل کے باعث نئے خطر ناک مرکبات بنا دیں گے۔  جو کہ جراثیم کو مارتے مارتے انسان کے لیے بھی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

اہم بات

 آخر میں ایک بات جو سب سے اہم ہے۔  معیاری منرل واٹر یا کم از کم معیاری فلٹر شدہ پانی کے پینے کے لیے سپلائی از حد ضروری ہے۔  وگرنہ ہر موسم میں ان گنت بیماریوں سے ہمارا بچ رہنا معجزہ ہی ہوگا۔

Exit mobile version